لکھنؤ کے ۲ تاریخی امام باڑے
تاریخ اور ایمان کی علامت
بڑا امام باڑہ، جسے آصفی امام باڑہ بھی کہا جاتا ہے، نواب آصف الدولہ نے ۱۷۸۴ء میں تعمیر کروایا۔ یہ عمارت اسلامی فنِ تعمیر کا عظیم معجزہ اور نواسۂ رسول حضرت امام حسین (ع) کی یاد و عزاداری کا عظیم الشان مرکز ہے۔
چھوٹا امام باڑہ، یا امام باڑہ حسین آباد مبارک، اودھ کے تیسرے نواب محمد علی شاہ نے ۱۸۳۸ء میں مؤمنین کے اجتماع اور اپنے مقبرے کے طور پر تعمیر کروایا تھا۔
سیرت و پیغامِ حضرت امام حسین (علیہ السلام)
حق، عدل اور انسانیت کا لازوال آفتاب — نواسۂ رسولِ اکرم حضرت محمد مصطفیٰ (ﷺ) اور فرزندِ علی (ع) و فاطمہ (س) حضرت امام حسین (ع) کی مقدس سیرت، اخلاقی انقلاب اور بے مثال قربانی کی معرفت حاصل کریں جس نے لکھنؤ کے عظیم امام باڑوں کو جنم دیا۔
حیاتِ طیبہ و سیرتِ مطہرہ
سخاوت اور تقویٰ: مدینہ منورہ میں ۴ ہجری (۶۲۶ء) کو پیدا ہونے والے حضرت امام حسین (ع) کی پرورش آغوشِ رسالت میں ہوئی۔ رات کی تاریکی میں آپ مدینہ کے یتیموں اور بیواؤں کے لیے آٹے اور کھجوروں کے تھیلے اپنے مبارک کندھوں پر اٹھا کر تقسیم فرماتے تھے۔
خدمتِ خلق: آپ ناداروں کے ساتھ خاک پر بیٹھ کر خشک روٹیاں کھاتے اور فرماتے کہ حقیقی عظمت پروردگار کی بندگی اور انسانیت کی بے لوث خدمت میں ہے۔
قیامِ کربلا اور عظیم قربانی
انکارِ بیعتِ یزید: ۶۱ ہجری (۶۸۰ء) میں جب یزیدِ جابر نے بیعت کا مطالبہ کیا، تو امام حسین (ع) نے اعلان فرمایا: ”مجھ جیسا انسان اس جیسے فاسق کی بیعت کبھی نہیں کر سکتا۔“
شہادتِ عظمیٰ: ۳ دن کی پیاس کے باوجود حضرت عباس (ع) اور ۶ ماہ کے علی اصغر (ع) سمیت ۷۲ باوفا انصار کے ہمراہ حق و انصاف کے لیے جانیں نچھاور کر دیں۔
اودھ میں زندہ و جاوید پیغام
ابدی پیغام: شہادت کے بعد ثانیٔ زہرا سیدہ زینب کبریٰ (س) نے کوفہ و شام کے درباروں میں خطبات دے کر ظالموں کی منافقت کو بے نقاب کیا اور پیغامِ حسینی کو زندہ رکھا۔
امام باڑوں کی تعمیر: لکھنؤ کے امام باڑے حکمرانوں کی عیش و عشرت کے محلات نہیں، بلکہ ذکرِ امام حسین (ع)، عزاداری اور رواداری کے مقدس مراکز ہیں۔
فرموداتِ حضرت امام حسین (علیہ السلام)
حریت، غیرت اور انسانی شرف کو اجاگر کرنے والے الہامی اقوال۔
تحریکِ حسینی کے ۴ اخلاقی ستون
وہ بنیادی اخلاقی اصول جو دنیا بھر میں آزادی اور عدل کی تحریکوں کے لیے مشعلِ راہ ہیں۔
۱. عالمگیر عدل و انصاف (عدل)
جابر حکمران کے آگے سر نہ جھکا کر یہ ثابت کیا کہ حق کی خاطر کھڑے ہونا ہر دور کا اولین اخلاقی فریضہ ہے۔
۲. شرفِ انسانی و آزادی (حریت)
خوف کی زنجیروں کو توڑ کر دکھایا کہ سچائی کے راستے پر گامزن چھوٹا سا گروہ بھی ظلم کو پاش پاش کر سکتا ہے۔
۳. اعلیٰ ترین ایثار (ایثار)
جنگ سے قبل دشمن کے لشکر اور پیاسے گھوڑوں کو بھی پانی پلا کر رحم دلی کی بے نظیر مثال قائم فرمائی۔
۴. بین المذاہب اتحاد
لکھنؤ میں ہر سال ہندو، مسلم، سکھ اور عیسائی سبھی مل کر محرم الحرام میں امام حسین (ع) کی قربانی کو سلام پیش کرتے ہیں۔
عالمی مفکرین کے خراجِ عقیدت
دنیا کے نامور فلسفیوں، شعراء اور رہنمائوں نے امام حسین (ع) کی قربانی سے روشنی حاصل کی۔
”میں نے حسین سے سیکھا کہ جب مظلومیت ہو تو فتح کیسے حاصل کی جاتی ہے۔ اگر ہندوستان کو آزاد ہونا ہے تو اسے حسین کے نقشِ قدم پر چلنا ہوگا۔“
”عدل اور حق کو زندہ رکھنے کے لیے فوجوں یا ہتھیاروں کی ضرورت نہیں ہوتی، یہ حسین کی طرح جان کی بازی لگا کر بھی حاصل کیا جا سکتا ہے۔“
”میں نے ۲۰ سال سے زائد قید خانے میں گزارے... جب بھی میری ہمت جواب دینے لگتی، میں امام حسین اور کربلا کو یاد کرتا، جس سے مجھے آزادی کے لیے لڑنے کا نیا حوصلہ ملتا۔“
”اگر حسین دنیاوی اقتدار کی خاطر لڑ رہے ہوتے تو کبھی اپنے اہلِ خانہ، خواتین اور معصوم بچوں کو ساتھ نہ لاتے۔ ان کی قربانی سراسر انسانیت کی بقا کے لیے تھی۔“
”اگرچہ امام حسین نے صدیاں قبل اپنی جان نچھاور کی، لیکن ان کی پاکیزہ روح آج بھی حق کے ابدی مینار کے طور پر انسانوں کے دلوں پر حکومت کر رہی ہے۔“
”انسانی تاریخ کے کسی بھی معرکے نے کربلا میں حسین کی شہادت سے زیادہ ہمدردی اور عقیدت حاصل نہیں کی۔“
امام باڑہ کیا ہے؟
امام باڑہ، جسے 'حسینیہ' یا 'عاشور خانہ' بھی کہا جاتا ہے، مؤمنین کے اجتماع کا وہ مقدس مقام ہے جہاں سید الشہداء حضرت امام حسین (علیہ السلام) اور شہدائے کربلا کی یاد میں مجالسِ عزا برپا کی جاتی ہیں۔
امام حسین (ع) مولائے کائنات حضرت علی (ع) اور سیدہ فاطمۃ الزہرا (س) کے فرزند اور شیعہ اثنا عشری کے تیسرے امام معصوم ہیں، جنہوں نے ۱۰ محرم ۶۱ ہجری کو کربلا کے میدان میں دینِ حق کی بقا کے لیے اپنی اور اپنے پیاروں کی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔
چھوٹے امام باڑے کے ۵ مرکزی دروازے ”پنجتن پاک“ کی علامت ہیں۔ عمارت کے اندر 'شہ نشین' ہے جہاں روضۂ امام حسین (ع) کی شبیہ (ضریح مبارک) رکھی جاتی ہے۔
آصفی امام باڑے کی تعمیر
۱۷۸۴ء میں نواب آصف الدولہ نے بڑا امام باڑہ اودھ کے شدید قحط کے دوران عوام کو باعزت روزگار فراہم کرنے کے لیے تعمیر کروایا تھا۔ اس عظیم الشان منصوبے میں تقریباً ۲۰ ہزار کاریگروں اور مزدوروں نے ۶ سال تک کام کیا، جس پر اس وقت تقریباً ڈیڑھ کروڑ چاندی کے سکے خرچ ہوئے۔ اس تعمیر میں غیور اور نادار شرفاء کو رات کے اندھیرے میں کام کرنے کی اجازت دی گئی تاکہ ان کی خودداری پر آنچ نہ آئے۔
طرزِ تعمیر کا بے مثال شاہکار
آصفی امام باڑہ اپنی شاندار اسلامی اور اودھی فنِ تعمیر کی بدولت دنیا بھر میں معروف ہے۔ امام باڑے کا مرکزی ہال بغیر کسی لوہے، لکڑی یا ستون کے محرابی کمانوں کے توازن پر قائم کیا گیا ہے، جو اسے دنیا کا سب سے بڑا بغیر ستون کا محرابی ہال بناتا ہے۔
ہال کے اندر بیلجیئم اور انگلستان کے نایاب قدیم جھاڑ فانوس آویزاں ہیں۔ شہ نشین میں قیمتی تعزیے اور علم پاک رکھے جاتے ہیں۔ یہاں نواب آصف الدولہ اور ان کی بیگم شمس النساء کی آخری آرام گاہیں بھی موجود ہیں۔
بڑا امام باڑہ (آصفی مسجد کمپلیکس)
بڑا امام باڑہ، جسے آصفی امام باڑہ بھی کہا جاتا ہے، لکھنؤ، ہندوستان کا ایک عظیم الشان تاریخی اور روحانی شاہکار ہے۔ اسے نواب آصف الدولہ نے 1784ء میں تعمیر کروایا تھا اور یہ اپنی لاجواب تعمیراتی عظمت، معلق محرابوں اور لکھنوی نفاست کے لیے دنیا بھر میں مشہور ہے۔
بڑے امام باڑے کے اندر اہم تعمیراتی خصوصیات:
۱. مرکزی ہال
وسعت و ساخت: یہ ہال تقریباً ۵۰ میٹر لمبا اور ۱۵ میٹر اونچا ہے، جسے بغیر کسی بیم یا شہتیر کے تعمیر کیا گیا ہے۔
نقش و نگار: اس کی دیواروں پر اودھی چونے کے گچ کاری کا باریک کام اور گلکاری موجود ہے۔
۲. رومی دروازہ
شاہی داخلی دروازہ: ۶۰ فٹ بلند رومی دروازہ استنبول کے تاریخی بابِ ہمایوں (Sublime Porte) کے نمونے پر تعمیر کردہ اودھی فن کا لازوال شاہکار ہے۔
۳. آصفی مسجد
مسجد کی ساخت: احاطے کے مغربی جانب واقع یہ مسجد اپنے متناسب گنبدوں اور میناروں کے ساتھ اسلامی فنِ تعمیر کا اعلیٰ نمونہ ہے۔
۴. شاہی باؤلی (Stepwell)
پانی کا ذخیرہ و خفیہ نگرانی: دریائے گومتی کے پانی سے جڑی یہ کثیر المنزلہ باؤلی پانی کے تحفظ کے ساتھ خفیہ آئینوں کے زاویوں سے نگرانی کے لیے ڈیزائن کی گئی تھی۔
۵. بھول بھلیاں (Labyrinth)
۴۸۹ راستے و آواز کا جادو: مرکزی ہال کے اوپر ۴۸۹ ایک جیسے دروازوں کا پرپیچ راستہ ہے جہاں سرگوشی کی آواز دور تک سنائی دیتی ہے۔
۶. وسیع صحن (Courtyard)
کھلا میدان: امام باڑے کا وسیع صحن روایتی مغل اور اودھ طرز کے باغات اور فواروں سے آراستہ ہے۔
۷. چھتریاں اور جھروکے
فنکارانہ بالکنیاں: چھتوں اور فصیلوں پر آراستہ چھتریاں اور نقشین جھروکے عمارت کے حسن کو دوبالا کرتے ہیں۔
۸. گچ کاری کی سجاوٹ
باریک گلکاری: محرابوں اور دیواروں پر چونے اور گچ کے ذریعے پھول پتیوں کے خوبصورت نقوش بنائے گئے ہیں۔
۹. لوہے اور لکڑی کا عدم استعمال
نایاب انجینئرنگ: پوری عمارت کو بغیر کسی لوہے کے سریے یا لکڑی کے گارڈر کے چونے اور خاص مسالے سے جوڑا گیا ہے۔
۱۰. محرابی چھتیں
چھتوں کا توازن: مختلف ہالوں کی محرابی اور گنبدی چھتیں صدیوں سے بغیر کسی ستون کے قائم و دائم ہیں۔
تصویری گیلری (Gallery)
چھوٹے امام باڑے کی تاریخی خوبصورتی
امام باڑہ آمد کے لیے ضروری معلومات
اوقات، مشترکہ داخلہ فیس، احترامِ مقام کے آداب اور تصدیق شدہ گائیڈ سے متعلق اہم تفصیلات۔
کھلنے کے اوقات
| صبح ۶:۰۰ بجے | کھلنے کا وقت |
| شام ۵:۰۰ بجے | بند ہونے کا وقت |
| شام ۴:۳۰ بجے | ٹکٹ کاؤنٹر کا اختتام |
| تمام ۷ دن (طلوع تا غروبِ آفتاب) | کھلنے کے ایام |
مشترکہ داخلہ فیس (Composite Pass)
| ۵۰ روپے | ہندوستانی شہری |
| ۱۰۰ روپے | سارک و بمسٹیک ممالک |
| ۵۰۰ روپے | غیر ملکی سیاح |
| مفت داخلہ | بچے (۱۵ سال سے کم) |
مقدس مقامات کے آداب و ہدایات
- شائستہ لباس: کندھے اور گھٹنے ڈھکے ہونے چاہئیں۔ آصفی ہال اور ضریح مبارک کے اندر سر ڈھانپنا ضروری ہے۔
- جوتے اتارنے کا کاؤنٹر: مرکزی دروازے پر ٹوکن کے ساتھ مفت جوتے جمع کرنے کا کاؤنٹر موجود ہے۔
- فوٹوگرافی: کھلے صحن میں اجازت ہے؛ نماز اور عزاداری کے دوران فلیش اور ویڈیو ریکارڈنگ منع ہے۔
- تصدیق شدہ گائیڈز: ہمیشہ مرکزی کاؤنٹر سے ASI یا یوپی ٹورزم کے ہولوگرام کارڈ والے گائیڈز ہی حاصل کریں۔
رہنمائے نقشہ (Walking Circuit)
حسین آباد ہیریٹیج زون کے ۵ تاریخی مقامات کو جوڑنے والے ۱.۲ کلومیٹر پیدل راستے کی رہنمائی۔